🤪”والدہ حضور اور چھٹکی”

March 22, 2021
188
Views
‏ 👇‏بھائی نے ہم پشتون خواتین کی کیا خوب نمائندگی کی ہے۔ واقعی بیٹا تم فخر ہو ہمارا۔اگلے دن پھر فون پر اماں نے بتایا کہ بیٹا اب پڑوس کی آٹھ دس عورتیں بھی محفل میں شامل ہوگئیں ہیں۔ روزانہ ایک گھنٹہ پشتو ترجمہ کیساتھ پڑھ کر سنائی ہوں۔ سب کہہ رہیں ہیں عارف ہمارے گاوں کا فخر ہے۔‏تیسرے دن اماں نے بتایا کہ مدرسے کی کچھ بچیاں بھی آگئیں ہیں وہ آپ کے ناول کا ترجمہ ذوق و شوق سے سن رہی ہیں۔ کچھ بچیاں کہہ رہیں ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے ہم خود روس میں ہیں۔ بیٹا اللہ آپ کو مزید کامیابیاں عطاء فرمائے۔ آمین۔ تم واقعی ہمارا فخر ہے ‏چوتھے دن آماں کا فون آیا میں حسب معمول توقع کرنے لگا کہ اماں ناول پر تبصرہ فرمائیں گی۔ اماں آج خاموش سی تھی۔ میں نے پوچھا، اماں کیا ہوا سب خیر تو ہے ناں؟ آگے سے اماں کی چیختی چنگھاڑتی آواز نے کانوں کے پردے پھاڑ دیئے گویا،”بھاڑ میں جاؤ تم ،بھاڑ میں گیا تمہارا ناول، ‏بے غیرت انسان تم تو ہو ہی بے غیرت اور ننگ خاندان میری عزت کا جنازہ بھی باجماعت گاوں میں نکلوا دیا تم نے”- میں ہکا بکا رہ گیا،یا آللہ ہوا کیا ہے۔ پوچھا “اماں اللہ خیر کرے کیا ہوا ہے کیوں ڈرا رہی ہو؟”۔ اماں نے اسی تسلسل سے اپنی بات جاری رکھی۔ “میری تربیت میں کونسی کمی رہ گئی ‏کیا یہ میری غلطی تھی،کہ تجھے باہر انسان بنانے روس بھیجا،گاؤں کی عورتیں استغفار کرتے ہوئے گئیں ہیں ابھی، بات بات پر تم نے لڑکی کے ہونٹ چومے ہیں کوئی اپنی اولاد کو بھی ایسا نہیں چومتا، ایسی ذلالت کوئی کیسے کرسکتا ہے؟۔ اور تو اور وہ خنزیر کی اولاد چھٹکی تیرے کولہوں پر ہاتھ ‏بھی پھیرتی تھی، عارف! تم نے آج میری اپنی نظروں میں مجھے گرادیا ہے۔” اماں کوسنے دیئے جارہی تھی حالانکہ یہ تو میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ ناول میں یہ مقام بھی آئیگا۔ورنہ میں بھولے سے بھی کتاب اماں کو نہ بھجواتا۔ “ناول ایسے ہوتے ہیں عارف؟ اگر اس دن کیلئے تجھے پڑھایا لکھایا ہے‏تو، دفعہ ہو،لعنت ہو، مجھ پر”۔ اماں کا پارہ مزید چڑھتا ہی جارہا تھا۔اماں تھوڑی دیر کیلئے خاموش ہوئیں “اماں اس میں غلط کیا ہے ہر میاں بیوی میں ایسے ہوتا ہے” میں نے آماں کو قابو کرنے کی آخری کوشش کی۔ “میاں بیوی میں تو اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے تو ایک کام کرو ‏اس کو بھی محلے والوں کے سامنے کرلیا کرو”۔ اماں کی دھاڑ بلند ہوئی۔ “یہ کتاب نہیں ہے عارف،بے غیرتی ہے۔ ایک کام کرو اپنی اس دو فٹ چھٹکی کو یہ کتاب دیدو اور کہو میرے سامنے دوبارہ نظر آئی ناں میں نے اس کی وہ انگلیاں توڑ دینی ہیں جس سے ‏اس میسنی نے تیری تشریف چھوئی ہے۔لونڈے باز اور بے شرم کہیں کی، خبردار آئندہ مجھے فون مت کرنا”۔ اماں بار بار فون کاٹ رہی تھیں میں بتاؤں تو کیسے کہ اماں ادب میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ چھوٹی والی بھابھی کو فون کرکے سمجھایا “اماں سے ناول دور کردو کہ اگر اماں ہوٹل روم تک پہنچ گئی تو ‏کیا ہوگا۔ میرا تو سوچ کر ہی کلیجہ منہ کو اجاتا ہے”۔آج بھابی سے صبح سویرے معلوم ہوا کہ اماں نے دوبارہ ناول پڑھنا شروع کردیا ہے۔ میں نے اپنے دونوں نمبر بند کردیئے ہیں۔عارف خٹک
😂😂😂😂😂😂
Article Categories:
Entertainment · News & Updates

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

The maximum upload file size: 128 MB. You can upload: image, audio, video, document, spreadsheet, interactive, text, archive, code, other. Links to YouTube, Facebook, Twitter and other services inserted in the comment text will be automatically embedded.