ہمارا نظام تعلیم

February 20, 2021
33
Views

محکمہ تعلیم جس سمت جا رہا ہے وہاں ایجوکیٹڈ نہیں ان ایجوکیٹڈ کی بھرتی کی ضرورت ہے.
وہاں کیمرہ مین کی ضرورت ہے،
وہا‌ں رپورٹر کی ضرورت ہے جو لمحہ بہ لمحہ تصویر ارسال کرتا رہے.
وہاں ڈاکیا کی ضرورت ہے جو بس ہر آنے والی ای میل، پروفارمہ کا جواب “آج ہی 12بجے سے پہلے” دے کر آئے.
وہاں اس مجرم کی ضرورت ہے جو چھوٹی سے چھوٹی غلطی کی انکوائری بھگتنے کے لئے سربراہان کے سامنے ہاتھ باندھے، سر جھکائے روزانہ رات 10، 10 بجے تک کھڑا رہے.
وہاں پڑھنے یا پڑھانے کا ذکر تک نہیں كرنا چاہیئے محض ایس او پیز پر عمل ہوتا رہے منافقت اور جھوٹ شائع ہوتا رہے.
افسران بالا سے معذرت کے ساتھ، سچ کڑوا ہوتا ہے
وہاں ایجوکیٹڈ نہیں ان ایجوکیٹڈ لوگوں کی ضرورت ہے!!!
”ب“ فارم
نصاب کی کتب میں لکھا جاتا ھے کہ ستر فی صد آبادی دیہاتوں میں رہتی ھے۔
یہ بھی لکھا اور پڑھایا جاتا دیہاتوں میں سہولیات کا فقدان ھے۔ یہ بھی کورس کی کتب میں ھے کہ دیہاتی لوگ سادہ لوح ھوتے ھیں۔ اور عورتیں سادہ ترین لوح ھوتی ھیں۔ اور اکثر دیکھا جاتا ھے کہ مرد کا شناختی کارڈ ھے تو بیوی کا نہیں اور بیوی کا ھے تو میاں کا نہیں ۔مزید نکاح تو ھے لیکن نکاح نامہ کا پتہ نہیں۔
بچوں کو سکول بھیج دیتے ھیں لیکن اساتذہ سے منتیں کروا کر۔ اور پھر ان بچوں کو تین سرکاری اور خالص حکومتی قاعدے ”کتابیں“ تو استاد ان کو دیتا ھے لیکن پھر کیا ھوتا ھے کہ انکے پاس اگر کاپی ھوتی ھے تو پنسل نہیں ۔پنسل ھے ایریزر شارپنر نہیں اگر یہ ھے تو بستہ نہیں ۔ بستہ ھے تو جوتے نہیں۔چپل ھیں تو سرکاری مجوزہ یونیفارم نہیں۔ اب مزید اب بچوں کی چھٹیوں کے جواز بھی لا تعداد عجیب ھوتے ھیں ۔ بغیر اطلاع کے پانچ پانچ دن سکول نہ آنا۔ منتیں کرکے اور منا کر سکول لے آنا ۔ نہ آٸیں تو ان کو بھی پتہ لگ چکا ھے بچے کا نام تو ٹیچر خارج کر نہیں سکتا۔ سبق یاد نہیں ۔۔لکھا نہیں ۔۔۔کوٸی خوف خطرہ نہیں ۔۔۔سزا تو ھے نہیں۔ اور ویسے ھی فیل تو کسی نے کرنا نہیں۔ استاد بیچارہ عجیب سچوٸیشن میں پھنسا ھوا ھے۔
اب جن والدین کے بچوں کے پاٶں چپل جوتا نہیں۔ وردی نہیں۔کاپی نہیں۔مطلب یہ کہ انکی اتنی سکت نہیں سامان تعلیم پورا رکھیں بچے کا ۔اور جن والدین کے چھ سات بچے ھیں ۔اور بچوں کی ماں کا شناختی کارڈ ھی نہیں۔ ان کو اگر کہا جاۓ کہ ”ب“ فارم بنواٶ ۔۔۔تو پوچھتے ھیں کتنا خرچ آۓ گا ۔ اب اگر کہا جاۓ کہ پانچ سو روپے۔۔۔۔تو لاپرواھی سے کہتے ھیں اچھا بنواٸیں گے۔ لیکن اسکے بعد بلانے پر یا کال کرنے پر بھی نہیں آتے۔ کیونکہ انکو پتہ ھے بچہ نہ خارج کر سکتے ھیں نہ فیل تو پھر ”ایڈی پریشانی دی کیڑھی لوڑ ھے“
اب ”ب فارم“ ھوگا تو داخل کرو بچے کو “ اس پالیسی کی سمجھ نہیں آتی۔ ب فارم نہ ھونے پراگر بچے کو سرکاری سکول داخل نہ کریں تو لازماً والدین اپنے گلی محلے کے کسی رجسٹرڈ یا غیر رجسٹرڈ پراٸیویٹ سکول میں بھیج دیں۔ کیونکہ وھاں کسی ب پ ج وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ اب کس طرح داخلہ بڑھاٸیں۔ جس کی باربار تنبیہی لیٹرز آتے ھیں کہ تمام تر ذمہ داری آپ پر ھوگی۔ اب جس بچے کا۔۔ب۔ فارم نہیں وہ sis پر درج نہیں ھو گا۔ بے فارم ھونا چاھیے لیکن یہ خالصتاً والدین کا کام ھے ۔اگر والدین نہ بنواٸیں تو اسکی سزا استاد کو کیوں۔ اگر سرکار کو اتنی سخت ضرورت ب فارم کی ھے۔۔تو والدین کو DCO کی طرف سے نوٹس دیا جاۓ۔
نادرہ ٹیم کو سکولوں میں بھیجا جاۓ اور مفت ب فارم دیا جاۓ۔
اب اساتذہ جو پہلے بھی ڈینگی۔ کرونا۔۔صفاٸی۔اور مختلف الاقسام فراٸض غیر منصبی میں مصروف عمل ھیں۔تو اب اسکی کمی رہ گٸی ھے۔۔اب آٸندہ والدین کے شناختی کارڈ۔۔نکاح نامے۔۔اور دیگر گھریلو دستاویزات جن کے اپنے اپنے محکمے ھیں۔۔کی تکمیل بھی اساتذہ سے کروا لو تو اچھا ھے۔۔۔۔تعلیم اور پڑھاٸی کا کیا ھے وہ تو ھوتی رھے گی۔
دور دور تک نظر نہیں آرھا کہ اب ابتداٸی تعلیم کے لیے ایسی پالیسیاں بنیں جن سے نٸی نرسری نسل تعلیمی تیکنیکی میدان میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ھم پلہ ھوسکے۔
اللہ ھمارے حکمرانوں کو ھدایت دے۔

Article Categories:
Latest · News & Updates

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

The maximum upload file size: 128 MB. You can upload: image, audio, video, document, spreadsheet, interactive, text, archive, code, other. Links to YouTube, Facebook, Twitter and other services inserted in the comment text will be automatically embedded.