با ادب با نصیب

با ادب با نصیب سالانہ سپورٹس ڈے پر میرے کچھ طلبہ نے میرے ساتھ کرکٹ کھیلنے کا پلان بنایا۔  ایک اوور میں  میں نے  بامشکل 2 رن بنائے  اور اگلے اوور کی پہلی گیند  پر کلین بولڈ ہو گیا اسٹوڈنٹس نے شور مچا کر بھرپور خوشی کا اظہار کیا۔ کلاس میں  جانے کے بعد میں نے پوچھا کون کون چاہتا تھا کہ میں اسکی گیند پر آوٹ ہو جاٶں؟سب باٶلرز نے ہاتھ کھڑے کر دیئےمیں مسکرا دیا اور پوچھا میں کرکٹر  میں کیسا ہوں؟ سب نے کہا بہت برےپوچھا میں ٹیچر کیسا ہوں جواب ملا بہت اچھے۔ میں اپنے طلبہ سے مخاطب ہوا۔
صرف آپ نہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے ہزارہا اسٹوڈنٹس جن میں کئی میرے نظریاتی مخالف بھی  ہیں گواہی دیتے ہیں کہ میں ایک اچھا ٹیچر ہوں راز کی بات بتاؤں میں جتنا اچھا ٹیچر ہوں اتنا اچھا اسٹوڈنٹ نہیں تھا مجھے ہمیشہ سبق یاد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور بات سمجھنے میں وقت لگا لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں اسکے باوجود مجھے اچھا ٹیچر کیوں مانا جاتا ہے؟سب نے کہا سر آپ بتائیں کیوں؟میں نے کہا ادب، مجھے اچھی طرح یاد ہے اپنے ٹیچر کے ہاں دعوت کی تیاری میں انکی مدد کر رہا تھا فریزر سے برف نکالی جسے توڑنے کیلئے کمرے میں کوئی شے نہیں تھی استاد کام کیلئے کمرے سے نکلے تو میں نے مکا مار کر برف توڑ دی اور استاد کے آنے سے پہلے جلدی سے ٹوٹی ہوئی برف دیوار پر بھی دے ماری کہ ان کو لگے برف دیوار پر مار کر توڑی ہے۔استاد کمرے میں آئے تو دیکھا کہ میں نے برف دیوار پر مار کر توڑی ہے انہوں نے مجھے ڈانٹا کہ تمہیں عقل کب آئیگی یوں برف توڑی جاتی ہے میں نے انکی ڈانٹ خاموشی سے سنی بعد میں انہوں نے اس بیوقوفی کا ذکر کئی جگہ کیا میں ہمیشہ بیوقوفوں کی طرح سر ہلا کر انکی ڈانٹ سنتا انہیں آج بھی نہیں معلوم کہ برف میں نے مکا مار کر توڑی تھییہ بات میں نے انہیں اسلئے نہیں بتائی کہ وہ ایک ہاتھ سے معذور تھے انکی غیر موجودگی میں میں نے  جوش جوانی  میں مکا مار کر برف توڑ دی لیکن جب انکی معذوری کا خیال آیا تو سوچا کہ میرے طاقت کے مظاہرے سے انہیں احساس کمتری نہ ہو اس لیئے میں نے برف دیوار پر مارنے کی احمقانہ حرکت کی اور لمبے عرصے تک انکی ڈانٹ سنتا رہااور ایک آپ لوگ ہیں کہ ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر ہدایات دے رہے تھے کہ سر کو یارکر مار کر آوٹ کرو.
جیتنا ہی  سب کچھ نہیں ہوتا کبھی ہارنے سے زندگی میں جیت کے راستے کھلتے ہیں آپ طاقت میں عہدے میں اپنے ٹیچرز اور والدین سے بے شک آگے  بڑھ جاتے ہیں لیکن زندگی میں سب سے جیتنا چاہتے ہیں تو اپنے ٹیچرز اور والدین سے جیتنے کی کوشش بھی  نہ کریں آپ  زندگی میں کبھی نہیں ہاریں گے۔اللہ پاک آپکو ہر میدان میں سرخرو کرے گا……
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ جس نے مجھے ایک حرف بھی پڑھایا تو میں اس کا غلام ہوں۔ 
ہماری اس جنریشن کو نہیں پتہ غلام اصل میں ہوتا کیا ہے۔ یہ اسلام سے پہلے کے دور سے سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ لوگوں کو خریدنے اور بیچنے کا۔ اسلام میں بھی اس کا تصور جنگی قیدیوں سے ہے غلام بنانے کا۔ غلام ایک کچھ قیمت کے عوض خریدہ ہوا انسان ہوتا ہے۔ جو آزاد نہیں ہوتا۔ جس کو اپنے مالک کی ہر اچھی بری بات ماننا ہوتی ہے۔  اور غلام کو جب تک آزاد نہ کیا جائے اس کی غلامی برقرار رہتی ہے۔ 
ہمارے آقا آخروزمان نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے غلاموں کو ان کے اقاوں سے خرید کر آزاد کیا تھا۔ 
یہ ہوتی ہے غلامی جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ کہ صرف ایک حرف پڑھانے والا کا یہ مقام ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے ایک استاد اور ایک عالم دین کا کیا مرتبہ ہونا چاہیے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہاں ایک عالم دین کو محض یہ کہنا مہنگا پڑ گیا۔ کہ ہیمیں جھوٹ بولنا چھوڑ دینا چاہیے۔ یا اللہ ہیمیں حرام کی کمائی سے بچا۔ ہمیں جھوٹ، کینہ بغض ملاوٹ سے بچا۔ ہمیں پکا سچا مسلمان بنا۔ اور اس بات پر سارا میڈیا ان عالم دیںن کے خلاف اعلان جنگ کر دیتا ہے کہ ہمیں جھوٹا کہا اور ان عالم دین کو مصلحت کے تحت کے ملک میں بگاڑ پیدا نہ ہو۔ سب سے اعلانیہ معافی مانگنی پڑی۔ اس حد تک ہم اخلاقی پستی کا شکار ہیں ک عالم دین سے معافی منگوا کے دم لیا۔ 
اب آتے ہیں ان لوگوں کی طرف جو چار جماعتیں پڑھ کر کہیں نہ کیہں استاد تو لگ جاتے ہیں نہ انہیں اپنے استاد کا احترام پتہ ہوتا نہ اپنے شعبے کی عزت ۔  یہ لوگ اپنے آپ کو دنیا کی سب سے عجیب مخلوق سمجھنے لگتے ہیں۔ جن اساتذا کی بدولت جناب آج استاد بنے ہیں ان کا احترام ہی موقوف ہو جاتا ہے۔ محض دس بارہ ہزار کی نوکری کرتے ہوئے خود کو شہنشاہ وقت تصور کر رہے ہوتے ہیں۔ اور اپنے طلبہ کے سامنے استاد کا احترام نہیں کرتے جس کی وجہ سے طلبہ بھی ایسے فصلی استاد کا احترام نہیں کرتے اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ ایسے ہی چند کم ظرف لوگوں نے پروفیشن کو بدنام کر کہ رکھ دیا ہے۔ہماری قوم دن بدن زوال کا شکار ہو رہی ہے۔  

اشفاق احمد مرحوم لکھتے ہیں۔ ایک دفعہ روم میں ان کا ٹریفک چالان ہو گیا۔ مصروفیت کی وجہ سے مجسٹریٹ کی عدالت میں کچھ دن دیر سے پیش ہوئے۔ تو مجسٹریٹ نے استفسار کیا کہ آپ چلان اتنے دن پہلے ہوا ہے اور آپ آج آئے ہیں۔ اشفاق احمد مرحوم نے فرمایا جناب عالی میں استاد ہوں اور کچھ مصروفیات کی وجہ سے دیر ہوئی۔ کہتے ابھی میں نے جب یہ کہا کہ میں ایک استاد ہوں تو مجسٹریٹ نے باآواز بلند کہا 
A teacher is in the court
اور وہ سب لوگ میری تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے۔ باقی بات میں نے بعد میں پوری کی تھی۔ اور اس دن میں یورپ کی ترقی کا راز جان گیا تھا۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ کوئ بھی انسان جب بھی کسی چھوٹے عہدے پر بھی فائز ہو جائے وہ اپنے آپ کو دنیا کی عجیب مخلوق سمجھتا ہے۔ اور عزت کرنا تو دور کی بات ہے استاد سے بھی خود کو بڑا سمجھنا میرے خیال میں اعلیٰ ظرفی میں شمار نہیں ہوتا۔ 
بھلے آپ وزیراعظم ہی کیوں نہ بن جائیں۔ اپنے تمام اساتذا کا احترام قیامت تک آپ پر واجب ہے۔ استاد کا رتبہ ماں باپ سے بھی بڑھ کر ہے۔ جس دن ہماری قوم کو یہ بات سمجھ آگئی ہمیں دنیا کی عظیم قوم بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ امین۔  

Zeen is a next generation WordPress theme. It’s powerful, beautifully designed and comes with everything you need to engage your visitors and increase conversions.

More Stories
Badam ki Sardaai