خواتین اور حسن سلوک۔

Nadeem Ahmad!

اللہ تبارک وتعالی نے مرد کو عورت سے مضبوط تخلیق کیا ہے۔ لیکن کچھ ایسے معاملات بھی  ہیں جہاں عورت مرد سے زیادہ مضبوط تصور کی جاتی ہے۔ باوجود اس کے عورت کو صنف نازک ہی کہا جاتا ہے۔  

کیا ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ حسن سلوک کیا جاتا ہے؟ کیا ہم خواتین کی appreciation کرتے ہیں یا نہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو ہم سب کو سوچنے چاہئں۔ خواتین کے ساتھ حسن سلوک کے بارے قران اور احادیث میں کیا حکم ہوا ہے۔

یوں تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ گھریلو خواتین سارا دن انتھک محنت کرتی ہیں۔ ناشتہ بنانے سے لے کر گھر کی صفائی ستھرائی، بچوں کی دیکھ بھال، شوہر کا خیال رکھنا، اپنے ساس سسر کا خیال رکھنا، دوپہر کا کھانا، شام کا کھانا۔ کپڑے دھونا، برتن دھونا اور اس کے علاوہ بھی بہت سے کام ہیں جو سارا دن کرتی ہے۔ اور ان کو پھر بھی Appeciation نہیں ملتی اور اگر خواتین کوئی جاب بھی کرتی ہیں ساتھ  تو ان کی ذمہ داریاں زیادہ سخت ہو جاتی ہیں۔ خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے رہنا چاہیے۔ میں نےایسے بہت سے گھروں کا مشاہدہ کیا ہے جہاں خواتین کے ساتھ اچھا برتاو نہیں کیا جاتا۔

۔ رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا ہے اس میں خواتین کی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔

خواتین سحری میں سب سے پہلے جاگتی ہیں۔ سب گھر والوں کے لیئے سحری تیار کرتی ہیں لیکن سب سے آخر میں کھاتی ہیں۔

روزہ رکھنے کے بعد دوپہر میں بچوں کو کھانا کھلاتی ہیں۔

پھر سپہر  سے افطاری  تک کچن کی گرمی میں  سب گھر والوں   کے لیئے افطاری تیار کرنے میں لگ جاتی ہیں.

کھانے اور، مشروبات وغیرہ  تیار کرتی ہیں اور ساتھ میں یہ ڈر بھی رہتا ہے کہ پتہ نہیں کیسے پکا ہوگا۔

اوراگر گھر میں  ساس  سسر یا کوئی بیمار ہے تو اس کے لیئے الگ چیز پکاتی ہیں۔ اور ساتھ ساتھ  افطاری سے پہلے شوہر یا گھر والوں کے غصہ کو صبر سے جھیلنا بھی پڑتا ہے۔

اذان سے پہلے دسترخوان لگانا تعریف تو دور کی بات  کھانے کے بعد ایک دو  ٹھنڈے گلاس مشروب مانگنا اور پھر کہنا کہ چینی کم ہے یا زیادہ ہے  کھانے میں نمک  کم ہے وغیرہ  اور افطاری پوری کر لی جاتی ہے۔

۔

تراویح کے بعد پھر سے سب کے لیئے چائے   تیار کرتی ہیں اگر چائے اچھی نہ ہو تو ڈانٹ الگ سے پڑتی ہے۔

اور پھر سے سحری میں سب سے پہلے جاگتی ہیں۔

اگر خدا نا خواستہ نہ جاگیں یا سحری لیٹ ہوئی تو سب خاندان کا نزلہ بیچاری خواتین پر ہی  گرتا ہے۔

۔

گھر کی ساری خواتین خواہ وہ ماں ہو بیوی ہو بیٹی ہو بہن ہو یا کوئی اور رشتہ ہو انکا لازمی خیال رکھنا چاہیئے۔

قران المجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے  بہت سی ایات میں بہت سے مقامات میں خواتین کے حقوق اور حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔

ترجمہ:عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں (تو بھی ان سے نباہ کرو) جس کو تم ناپسند کرتے ہو، اس میں اللہ تعالیٰ ضرور خیر کثیر پیدا فرمادے۔

(سورۃ النساء: 19)

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

ترجمہ:ان عورتوں کے لئے مردوں پر معروف کے مطابق وہی حقوق ہیں جو عورتوں پر مردوں کے لئے عائد ہوتے ہیں۔

(البقرۃ: 228)

جہاں قران المجید میں  اللہ تبارک وتعالیٰ نے خواتین سے حسن سلوک کے بارے میں حکم دیا ہے وہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی احادیث میں خواتین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔

ترجمہ:کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں سب سے بہتر اور اپنے بیوی بچوں پر سب سے زیادہ مہربان ہو۔

(جامع الترمذی، الایمان، باب فی استکمال الایمان والزیادۃ والنقصان )

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اور حادیث مبارکہ ہے۔

ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے، جو اپنی بیوی کے حق میں سب سے بہتر ہے اور میں اپنے گھر والوں کے لئے سب سے بہتر ہوں۔

(سنن ابن ماجہ،کتاب النکاح، باب حسن معاشرۃ النساء، حدیث نمبر:1977)

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آخری خطبہ میں بھی ارشاد فرمایا۔

لوگو! اپنی عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔

قران الکریم اور احادیث کی روشنی میں ہمیں یہی حکم ملتا ہے کہ اپنی خواتین کے ساتھ ہمیں حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔

آخر کو ہم سب نے ایک دن اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور پیشں ہونا ہے۔ کہیں ہم عائلی زندگی اور حقوق العباد میں نا انصافی کی وجہ سے اللہ کی پکڑ میں نہ آجائیں۔۔۔

یہ معاشرتی پسماندگی ختم کریں تا کہ ۔اللہ ہم سب سے راضی ہوجائے۔

آپ سے درخواست ہے کہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلایں ہو سکتا ہے کسی کے دل میں اتر جائے میری یہ بات اور وہ گھر میں اپنی خواتین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے لگے۔ یہی صد قہ جاریا ہے۔

Zeen is a next generation WordPress theme. It’s powerful, beautifully designed and comes with everything you need to engage your visitors and increase conversions.

More Stories
Activities of 9th Moharram