بادشاہ اور حکایت۔

April 29, 2020
36
Views

ایک دفعہ کا ذکر  ھے کسی ملک کا ایک بادشاہ تھا جو نہایت ایماندار اور دانشمند تھا۔ اس نے  اپنے محل سے دوسرے شہر تک ایک  سڑک تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اورتعمیراتی وزیر کو بلا بھیجا جیسے ہی وزیر در بار میں حاضر ہوا بادشاہ نے اپنی خواہشں کے مطابق سڑک تعمیر کرنے کا حکم دیا۔  جب سڑک تعمیر ھو گئی اور اس کے افتتاح کا وقت آنپہنچا بادشاہ  نے اپنے سب وزیروں سے کہا کہ ایک بار پوری سڑک کا جائیزہ لیکر آیئں تاکہ پتہ چل سکے کہ کہیں کوئی نقص تو نہیں رہ گیا؟
سب  وزیر آداب بجا لاتے ہوئے بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں  چل پڑے۔ !!! 

شام کے وقت  ایک  وزیر واپس آیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت پوری سڑک بہت ہی شاندار بنی ھے۔ اور اس کے دونوں اطراف نہایت دیدہ زیب پودے بھی لگے ہیں مگر سڑک پر ایک جگہ کچرا پڑا نظر آیا اگر وہ اٹھا لیا جائے تو سڑک کی خوبصورتی میں کئی گنا اضافہ ہو جائے۔
ایک اور وزیر آیا تو اس نے بھی  کچھ ملتے جلتے انداز میں  سڑک اور دونوں اطراف کی خوبصورتی کے  قصیدے پڑھے اور عرض کیا کہ سڑک پر ایک جگہ کچرہ ھے اگر وہ اٹھا لیا جائے تو سڑک  کی خوبصورتی پر انگلی اٹھانے کی گنجائیش بھی  باقی نہیں رھے گی۔ بادشاہ خاموش رہا اور اپنے اگلے وزیر کے آنے کا انتظار کرتا رہا۔ تیسرا وزیر آیا تو وہ بہت تھکا ھوا نظر آیا اور پسینے سے شرابور ۔  اس کے ہاتھ میں ایک تھیلا  تھا۔ نہایت ادب کے ساتھ مخاطب ہوا۔   بادشاہ سلامت سڑک تو آپکی خواہش کے مطابق بہت عالیشان بنی ھے مگر سڑک پر مجھے ایک جگہ کچرا پڑا نظر آیا جسکی وجہ سے سڑک کی خوبصورتی ماند پڑ رہی تھی۔ میں نے اسکو صاف کر دیا ھے۔ اب سڑک کی خوبصورتی کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ اور  ہاں وہاں یہ ایک تھیلا بھی تھا شاید کوئی بھول گیا ھوگا۔
 بادشاہ یہ سن کر مسکرایا اور کہا۔
یہ کچرا میں نےہی رکھوایا تھا اور یہ تھیلا بھی۔ اس تھیلے میں پیسے ہیں جو تمھارا انعام ھے اور پھر بادشاہ نے با آواز بلند کہا دعوے۔۔! تو سبھی کرتے ہیں اور خامیاں بھی سب نکالتے ہیں۔ چاہتے سب ہیں کہ سب اچھا ھو جائے مگر عملدرآمد کوئی نہیں کرتا۔!!
دوستوں کچھ یہی حال وطن پاکستان کا بھی ہے۔ ہم سب کے لیے تنقید کرنا, شکایت کرنا  دوسروں پر انگلی اٹھانا بہت اسان ہے پر ہم خود کو ٹھیک کرنا نہیں چاہتے۔ خواہش ہم سب کی یہی ہوتی ہے کہ اگلا شخص ٹھیک ہو تو سب اچھا ہو گا۔ مگر جب اپنی ذمہ داری کی بات آتی ہے تو ہم نظریں چرا لیتے ہیں۔آخر ایسا کب تک چلے گا؟  ہم اگر چاھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں سب اچھا ھو تو پہلے  ہمیں خود کو بدلنا ھوگا۔ اور اپنے معاشرے کو روشن  بنانے کے لئے اپنا بھرپور تعمیری کردار ادا کرنا ھوگا۔ قومیں زندہ ضمیر اور اتحاد سے وجود میں آتی ہیں۔ آئیں ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ آج سے ہم اپنے وطن عزیز  کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔
 بظاہر تو یہ ایک چھوٹی سی کہانی ہے۔ مگر دیکھا جائے تو اس میں پیغام بہت بڑا ہے۔  

Article Categories:
Latest

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

The maximum upload file size: 128 MB. You can upload: image, audio, video, document, spreadsheet, interactive, text, archive, code, other. Links to YouTube, Facebook, Twitter and other services inserted in the comment text will be automatically embedded.