حضرت عمر اور غلام۔

April 27, 2020
179
Views

ضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہو نے کبھی کوئی خواہش نہیں کی تھی۔ایک دن آپ کا  مچھلی کھانے کو دل چاہا تو اپنے غلام  یرکا سے اظہار فرمایا۔۔! یرکا آپ کا بڑا وفادار  اور بڑا پیارا غلام تھا  آپ نے فرمایا یرکا۔۔! 
 آج مچھلی کھانے کو دل کرتا ہے۔!  
 حضرت عمر رضی اللہ عنہو  نے فرمایا دل تو کر رہا ہے مچھلی کھانے کا پر مسئلہ یہ ہے آٹھ میل دور جانا پڑے گا دریا کے پاس مچھلی لینے اور آٹھ میل واپس آنا پڑے گا۔  ۔۔
پھر آپ نے فرمایا رہنے دو کھاتے ہی نہیں ایک چھوٹی سی خواہش کیلئے اپنے آپ کو اتنی مشقت میں ڈالنا اچھا نہیں لگتا  کہ اٹھ میل جانا اور اٹھ میل واپس آنا صرف میری مچھلی کھانے کی خواہش کے لئے؟ 
چھوڑو یرکا۔۔۔۔۔۔۔  اگر قریب سے ملتی تو اور بات تھی۔
غلام  کہتا ہے میں کئی سالوں سے آپ کا خادم تھا لیکن کبھی آپ نے کوئی خواہش  نہیں کی تھی پر آج جب خواہش کی ہےتو میں نے دل میں خیال کیا کہ حضرت عمر فاروق نے پہلی مرتبہ خواہش کی ہے اور میں پوری  نہ کروں۔؟
ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔!!! 
غلام کہتا ہے جناب حضرت  عمرؓ  ظہر کی نماز پڑھنے مسجد گئے تو مجھے معلوم تھا ان کے پاس کچھ مہمان آئے ہوئے ہیں عصر کی نماز  انکی وہیں ہوجائے گی۔غلام  کہتا ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کے پیچھے نماز پڑھی اور مسجد سے باہر آگیا کہ کیسے جایا جائے ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا یہ ۔ میں نے حضرت عمر کا گھوڑا دیکھا تو سوچا عربی نسل کا گھوڑہ   ہے جلدی واپس آجاوں گا۔ یہ سوچتے ہی میں نے گھوڑا دوڑایا اور  دریا پر پہنچ گیا.. 
عربی نسل کے گھوڑے کو آٹھ میل  بھلا  کیا کہتے ؟؟
وہاں پہنچ کر میں نے ایک ٹوکرا مچھلی کا خریدا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عصر کی نماز ہونے سے پہلے میں واپس بھی آگیا اور گھوڑے کو میں نے ٹھنڈی چھاؤں میں باندھ دیا تاکہ اس کا جو پسینہ آیا ہوا ہے وہ خشک ہو جائے اور کہیں حضرت عمر فاروق دیکھ نا لیںغلام کہتا ہے کے کہ گھوڑے کا  پسینہ تو خشک ہوگیا پر پسینے کی وجہ سے گردوغبار گھوڑے پر جم گیا تھا جو واضح نظر آرہا تھا کہ گھوڑا کہیں سفر پہ گیا تھا پھر میں نے سوچا کہ حضرت عمرؓ فاروق دیکھ نہ لیں ۔۔پھر میں جلدی سے گھوڑے کو کنویں پر لے گیا اور اسے جلدی سے غسل کرایا  صاف کیا اور  اسے لا کر چھاؤں میں باندھ دیا۔۔
دوستو!  (جب ہماری خواہشات ہوتی ہیں تو ہمارا  کیا حال ہوتا ہے ہم چاہتے ہیں آنکھ بند کر کے کھولیں اور خواہش پوری ہو جائے۔  لیکن یہ  کیسے بندہ خدا  ہیں جو  حضرت عمر کی مچھلی کھانے کے لیے کی گئی خواہش کی تکمیل بھی  کر  رہے ہیں اور ساتھ ساتھ  ڈر بھی  رہے ہیں  ظاہر ہے  یہ ان میں ضمیر زندہ ہونے کی علامت ہے۔  
یرکا فرماتے ہیں اتنے میں نماز عصر کا وقت ہوا چاہتا تھا میں بھی مسجد چلا گیا اور حضرت عمر کے پیچھے نماز ادا کی۔  جب عصر کی نماز پڑھ کر حضرت عمر فاروق گھر تشریف لائے۔  تو میں نے کہا حضور  اللہ نے آپ کی خواہش پوری کردی ہے۔ 
مچھلی کا اچھا بندوبست ہوگیا ہےاور بس تھوڑی ہی دیر میں مچھلی پکا کے پیش کرتا ہوں۔
کہتا ہے میں نے جیسے ہی  یہ لفظ کہے تو جناب عمر فاروق اٹھے اور گھوڑے کے پاس چلے گئے گھوڑے کی پشت پہ ہاتھ پھیرا،اس کی ٹانگوں پہ ہاتھ پھیرا اور پھر اس کے کانوں کے پاس گئے اور گھوڑے کا ایک کان اٹھایا پھر دوسرا  اور کہنے لگے یرکا تو نے سارا گھوڑا تو دھو دیا لیکن کانوں کے پیچھے سے پسینہ صاف کرنا تجھے یاد ہی نہیں رہا۔۔اور یہاں تو پانی ڈالنا بھول گیا۔۔اور پھر  حضرت عمرؓ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے “اوہ یار یرکا ادھر آ تیری وفا میں مجھے کوئی شک نہیں ہےاور میں کوئی زیادہ نیک آدمی بھی نہیں ہوں، کوئی پرہیز گار بھی نہیں ہوں ، میں تو دعائیں مانگتا ہوں اے اللہ میری نیکیاں اور برائیاں برابر کرکے مجھے معاف فرما دے۔۔میں نے کوئی زیادہ تقوی اختیار نہیں کیا اور بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمانے لگے یار اک بات تو بتا اگر یہ گھوڑا کل قیامت والے دن اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرے کہ یا اللہ عمر نے مجھے اپنی ایک خواہش پوری کرنے کے لیے 16 میل کا سفر طے کرایا اے اللہ میں جانور تھا، بےزبان تھا۔ مجھ پر اتنا ظلم۔۔! 16 میل کا سفر صرف  ایک خواہش پوری کرنے کیلئے تو پھر یرکا تو بتا میرے جیسا وجود کا کمزور آدمی مالک کے حضور گھوڑے کے سوال کا جواب کیسے دے گا؟”
  یرکا کہتا ہے میں اپنے باپ کے فوت ہونے پر اتنا نہیں رویا تھا جتنا آج رویا میں تڑپ اٹھا کے حضور یہ والی سوچ۔!! 
 (اور ایک طرف ہم ہیں جو اپنے ملازمین کو نیچا دکھا کر اپنا افسر ہونا ظاہر کرتے  رہتے ہیں)
غلام رونے لگا حضرت عمرؓ فاروق کہنے لگے اب اس طرح کر گھوڑے کو تھوڑا چارہ اضافی ڈال دے اور یہ جو مچھلی لے کے آئے ہو اسے مدینے کے غریب گھروں میں تقسیم کر دو اور انہیں یہ مچھلی دے کر کہنا کے تیری بخشش کی بھی دعا کریں اور عمر کی معافی کی بھی دعا کریں۔“
دوستو! ایک طرف ہم لوگ ہیں جو اپنی فضول خواہشات کو پورا کرنے کی خاطر کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔ میں نے  بہت سے لوگوں کو اکثر ایک جملہ بولتے سنا ہے۔ کہ شوق دا کوئی مول نہیں۔ یہ اکثر ہم اپنی دنیاوی خواہشات پوری کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ جب کے ایک طرف صحابی رسول ہیں اور ان کا غلام جن کا دل اس حد تک اللہ کے خوف میں ہے کہ مچھلی کھا نے کی خواہش اس لیے پوری نہیں کی کہ کہیں گھوڑا قیامت کے دن ان کی

شکایت نہ لگا دے۔ اللہ اکبر۔ ! کاش ہمارے ضمیر بھی زندہ ہو جائیں اور ہم بھی ان جیسا تقوی اختیار کر سکیں۔ ! امین 

Article Categories:
Islamic Stories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

The maximum upload file size: 128 MB. You can upload: image, audio, video, document, spreadsheet, interactive, text, archive, code, other. Links to YouTube, Facebook, Twitter and other services inserted in the comment text will be automatically embedded.